شواہد اکھٹّا کرنا

شواہد کی اقسام

شواہد کی کئی طرح کی اقسام ہو سکتی ہیں۔ جیساکہ شواہد کی کوئی مخصوص قسم نہیں ہے، آپ کے جمع کئے گئے ثبوت آپ کے کیس سے ہی مخصوص ہوں گے۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ پر تشدّد کرنے والا اگر آپ پرزبانی اور ذہنی تشدّد کررہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ زیادتی نہیں ہے اور اس کے خلاف ثبوت اکھٹّےکرنے کے کئی طریقے ہیں۔ اس گائیڈ کو پڑھتے جائیےاور آپ کو پتا چل جائے گا کہ یہ کیسے ہوگا!
اگلا سیکشن آپ کو ثبوت کو قانونی نقطہ نظر سے سمجھائے گا۔ اس کی وجہ سے آپ اس کا استعمال کرنے سے رک نہیں جائیے گا۔ ثبوتوں کی تمام اقسام کا تعلق آپ کے کیس سے نہیں ہوگا، لیکن عدالت کے حساب سے ان کی درجہ بندی جاننا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اس حصّے میں کسی بھی مقام پر اگر آپ اپنے آپ کو بےبس محسوس کریں تو اس حصّے کو چھوڑ کر ثبوت کی اقسام والے حصّے کو پڑھ لیں۔ زیادہ تر عدالتوں میں ۵ مختلف طریقوں سے ثبوت پیش کئے جاتے ہیں
۱۔ تحریری
  1. 1.
    تحریری
  2. 2.
    حقیقی
  3. 3.
    سنی سنائی/بل واسطہ
  4. 4.
    بنیادی
  5. 5.
    حلفیہ

(1) تحریری شواہد:

یہ ان رپورٹس اورتحریروں پر مشتمل ہیں جو عدالت میں معائنے کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔ان میں حقیقی اور بنیادی ثبوت بھی ہو سکتے ہیں اور سنے سنائے بھی۔
آپ ان میں درج ذیل قسم کی رپورٹس شامل کر سکتے ہیں:
  • یہ آپ کے ہسپتال، نرس، ڈاکٹر، تھیرپسٹ یا مالیشیا کی طرف سے کوئی فارمل خط یا باضابطہ رپورٹ ہوسکتی ہے جو آپ کی ذہنی اور جسمانی حالت کی تصدیق کرے۔ وہ ایسے کسی واقعہ کے گواہ بھی ہوسکتے ہیں جب آپ کا پارٹنر ہسپتال میں آپ پر چِلّایا ہو یا چیک اپ پر آپ کے ساتھ آتا ہو۔
  • آپ پر تشدّد کرنے والے کے خلاف کوئی بل، سزا، واقعہ کی رپورٹ یا پولیس کی کوئی وارننگ۔
  • آپ پر تشدّد کرنے والے کے خلاف کوئی کرمنل کیس یا اگراس نے آپ کے خلاف کوئی کیس درج کیا ہو۔
  • تشدّد سے بچنے والوں کے لئے کوئی آرگنائزیشن جیساکہ کسی پناہ گاہ،لاء فرم یہاں تک کہ سپورٹ ہیلپ لائن کی طرف سے کوئی سپپورٹنگ خط۔
  • کسی ایسی آرگنائزیشن کا خط جو مشکلات میں لوگوں کی مدد کرتی ہو۔ مثلاً سوشل سروسز۔
  • · کوئی اور سرکاری دستاویز، رپورٹ یا ثبوت جو آپ کے خلاف ہوئےتشدّد کو یا آپ پر تشدّد کرنے والے کا کسی اور پر تشدّد ثابت کر سکے۔
· یہ آپ کے ہسپتال، نرس، ڈاکٹر، تھیرپسٹ یا مالیشیا کی طرف سے کوئی فارمل خط یا باضابطہ رپورٹ ہوسکتی ہے جو آپ کی ذہنی اور جسمانی حالت کی تصدیق کرے۔ وہ ایسے کسی واقعہ کے گواہ بھی ہوسکتے ہیں جب آپ کا پارٹنر ہسپتال میں آپ پر چِلّایا ہو یا چیک اپ پر آپ کے ساتھ آتا ہو۔
· آپ پر تشدّد کرنے والے کے خلاف کوئی بل، سزا، واقعہ کی رپورٹ یا پولیس کی کوئی وارننگ۔
· آپ پر تشدّد کرنے والے کے خلاف کوئی کرمنل کیس یا اگراس نے آپ کے خلاف کوئی کیس درج کیا ہو۔
· تشدّد سے بچنے والوں کے لئے کوئی آرگنائزیشن جیساکہ کسی پناہ گاہ،لاء فرم یہاں تک کہ سپورٹ ہیلپ لائن کی طرف سے کوئی سپپورٹنگ خط۔
· کسی ایسی آرگنائزیشن کا خط جو مشکلات میں لوگوں کی مدد کرتی ہو۔ مثلاً سوشل سروسز۔
· کوئی اور سرکاری دستاویز، رپورٹ یا ثبوت جو آپ کے خلاف ہوئےتشدّد کو یا آپ پر تشدّد کرنے والے کا کسی اور پر تشدّد ثابت کر سکے۔

(۲) جسمانی یا حقیقی شواہد

یہ اکثر کوئی ایسی چیز ہو تی ہے جو معائنے کے لئے پیش کی جا سکے، جو کہ یہ ثابت کر سکے کہ ایسی چیز حقیقت میں موجود ہے یا پھر عدالت اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکےجس کی مدد سے وہ ثبوت کی بنیادپہ نتیجہ نکال سکیں۔
حقیقی شواہد میں پھٹے ہوئے کپڑے، کوئی خط، کوئی ہتھیار، کوئی دستاویز یا پھر کچھ حدتک ضائع شدہ دستاویز یا پھرکوئی اور ٹھوس حقیقی شے ہو سکتی ہے۔ اس میں تصاویر، ٹیکسٹ میسج، ای میل، سوشل میڈیا پر کی گئی گفتگو، وڈیو یا بد سلوکی کے واقعات کی آڈیو فائلز شامل ہو سکتی ہیں۔

(٣) بنیادی ثبوت

بنیادی ثبوت ایک ایسا بیان ہے جو عدالتی کاروائی سے پہلے لیاگیا ہو۔( مثلا ً، تشدّد کے واقعے کے دوران مرتکب شخص نے کہا ہو، ’’ میں تمہیں جان سے مار دوں گا‘‘)۔ یہ بیان اس کی سچائی ثابت کرنے کے لئے نہیں لیکن اس سے اس کا مقصد ظاہر ہوتا ہے مثال کے طور پر یہ اس حالات کے متعلق منظر نامہ فراہم کرے گا یا پھرآپ کے کیس کو مضبوط کرے گا، آپ کی کہانی کی تائید کرے گا۔ مثال کے طور پر، جب آپ پر تشدّد کرنے والا یہ کہے گا کہ " میں تمہیں جان سے مار دوں گا"، اس بات کو بیان میں شامل کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ یہ ثابت ہو جائےکہ وہ آپ کو جان سے مارنا چاہتا یا چاہتی ہے، بلکہ اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ اس کی شخصیت کس قدر جارحیت پسند ہےیا اس تعلق کی نوعیت تشدّد پسندی کی ہے۔

(۴) بالواسطہ شہادت

گواہ کا یا کسی اور کا عدالت کے باہر اور ان کی گواہی کے علاوہ دئیےگئےبیان کو سنی سنائی یا بالواسطہ شہادت کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے خاندان کا کوئی فرد یہ کہے کہ وہ آپ کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ انہوں نے مرتکب شخص کو مار پیٹ کرتے ہوئے دیکھا ہے، یا کوئی پڑوسی یہ کہے کہ انہوں نے لڑائی جھگڑے کی آواز یا تشدّد کی علامت سنی ہے، یہ سب بیانات اگر عدالت کے باہر یا عدالت میں جانے سے پہلےکے ہیں، تو اس طرح کے بیان بالواسطہ شہادت کے طور پر شامل کئے جا سکتے ہیں۔کئی قانونی دائرہ کار میں، ایسی شہادتیں قابل قبول نہیں ہوتیں۔ لیکن سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اور یہ اور کسی اور ایسا دوسرے کیسز میں بھی ہوسکتا ہے۔
عدالت میں بالواسطہ شہادت عینی شہادت کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہے، لیکن اگر آپ اسے کسی امدادی بیان یا کسی اور ریکارڈ کردہ شہادت کی مدد سے اسے ثابت کر سکیں تو یہ اس صورت میں مفید ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے ثبوت اکھٹا کرنا چاہئے باوجود اس کے کہ ہوسکتا ہے یہ ثبوت اتنے اہم نہ سمجھے جائیں۔

(۵) حلفیہ شہادت

یہ ایسی شہادت ہے جو عدالتی کاروائی کےدوران، گواہ حلف لیکر پیش کرتے ہیں۔ گواہ اکثر عدالت جانے سے پہلے بھی بیان دیتے ہیں، یہ بیان حلفیہ گواہی سے مختلف ہوتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں حلفیہ ثبوت صرف کھلی عدالت میں پیش کیا جاتاہے۔تاہم، جب سیاسی پناہ کی درخواست دینی ہوتو حلفیہ بیان تحریری طور پر داخل کیا جا سکتا ہے اور اسائلم کیس ورکر کبھی بھی تشدّد کرنے والے سے "اس کے حصّے کی کہانی سننے کے لئے" رابطہ نہیں کرتے، اس لئے اس بارے میں آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ حلفیہ ثبوت کی مثالوں میں یہ شامل ہیں:
  • · براہ راست گواہ: وہ لوگ جنہوں نےبراہ راست تشدّد ہوتے ہوئےدیکھا ہو۔
  • · ماہرین کی گواہی: ان میں زیادہ تر ڈاکٹر، سوشل ورکر، نرسز، یا سائیکالوجسٹ شامل ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں وہ لوگ جن کی معلومات ان فیلڈز میں زیادہ ہو جن کے بارے میں عدالت کی معلومات میں کمی ہو۔
  • · کردار کی گواہی: یہ وہ گواہ ہیں جو عدالتی کاروائی میں آپ کے کردار کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے، کیونکہ آپ پر تشدّد کرنے والا آپ کی ساکھ کو چیلنج کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ خود سوزی کرتے ہیں یا پھریہ تشدّد کی من گھڑت کہانی بنائی جا رہی ہے۔ آپ کی سچائی یا ذہنی حالت پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ اس لئے کردار کے گواہ آپ کے کیس کے لئے بہت اہم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہونے چاہیں جو آپ کے حالات جانتے ہوں۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کی زندگی کے مختلف حصّوں سے ہوں۔ مثلاً آپ کے خاندان کا کوئی فرد، دوست، آپ کا امپلائر، یا آپ کے بچے کے اسکول کا ٹیچر جو اس بات کی تصدیق کر سکے کہ آپ ذمہ دار والدین میں سے ہیں۔ چاہے آپ کے بچے کا اسکول میں رویّے پہ ایک مختصر کا بیان ہو یا آپ کے امپلائر کا آپ کے کام کے بارے میں رائے ہو، یہ آپ کے کیس کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ جو بھی آپ کے بارے میں کہیں گے وہ کسی نہ کسی طرح سے آپ کے کیس کے لئیے مفید ہو سکتا ہے!
یہ حصّہ سب سے زیادہ مشکل تھا۔ اگر آپ یہاں تک پہنچ چکے ہیں اس کے بعد سب آسان ہے۔ اسے جاری رکھیں!

زیادتی کے واقعات

"مظلوم یا تشدّد سے گزرنے والے شخص کی حیثیت سے یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ اس سوچ پر قابو پا لیں کے زیادتی کی خبر عام ہونے سے آپ کی توہین ہوگی یا آپ کو شرمندگی ہو گی۔ آپ کو آگے بڑھنا ہو گا۔ آپ کو یہ بات جاننی ہے کہ شواہد کا اکھٹّا نہ کرنا آپ کے خلاف اور آپ پر زیادتی کرنے والے کے حق میں جائے گا۔آپ کو اپنے ذہنی سکون، جس پہ آپ کا حق ہے، کے لئے یہ محنت کرنی ہوگی۔ یہ یاد رکھیں کہ آپ کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا حق ہے اور زیادتی کرنے والے کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس حق کو آپ سے چھینے۔ شواہد اکھٹّے کریں اور انہیں کسی محفوظ جگہ پر رکھیں۔ اس سے آپ کو اپنی کھوئی ہوئی آزادی واپس ملنےمیں مدد ہو گی۔ جب میں لوگوں کو بتاتی ہوں کہ میرے والدین میرے ساتھ کیا کرے ہیں تو وہ مجھے پاگل سمجھتے ہیں۔ وڈیو ریکارڈ کرنا ہی ایک طریقہ ہے جس سے وہ میرا یقین کرتے ہیں۔" ۔۔بہادر عورت، ۲۶
شواہد اکھٹّے کرتے ہوئےدھیان میں رکھی جانے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کی حفاظت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس لئے ہمیشہ محتاط رہیں اور احتیاط کریں کہ شواہد آپ اس طرح جمع کریں کہ وہ آپ کے لئے خطرے کا باعث نہ بنیں۔نیچے دئیے گئے حفاظتی اقدام کو ضرور دیکھیں۔ شواہد جمع کرنے کا بہترین وقت وہ ہے کہ جب آپ زیادتی والے تعلق میں اس وقت موجود ہوں،تا کہ آپ یہ دکھا سکیں کہ آپ پہ تشدّد کرنے والا شخص کا رویّہ روز مرّہ کی زندگی میں کیسا رہتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ اپنے پارٹنر یا آپ کے چھوڑ جانے پہ ہو سکتا ہے کہ غصّے میں ہوں۔ایسا اس لئے کہ، کچھ ممالک میں جج زیادتی کرنے والے سے ہمدردی کرتے ہیں کہ اسکا غصہ پارٹنر کے تعلقات یا گھر چھوڑنے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اصل میں ایسا نہ ہو۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس قسم کے شواہد اہم نہیں ہیں۔ اگر کوئی ایسا کام ہے جو بہت ضروروی ہے وہ یہ ہے کہ، آپ دھیان سے اور پابندی سے ہر چیز کا ریکارڈ رکھیں اور شواہد جمع کرتے رہیں۔
اگر آپ اس پر تشدّد رشتے میں کچھ عرصے سے ہیں، تو اس کی نشاندہی مشکل ہو سکتی ہے کہ بدسلوکی کے کون سے واقعات ریکارڈ ہونے چاہیں۔ ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ریکارڈ کیا جائے اور اگر بعد میں ضروری محسوس نہ ہو تو انہیں نکال دیں۔ اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ کی زندگی وہ شخص جی رہا ہے جس سے آپ محبت کرتے ہیں۔مثلاً کوئی دوست، کزن، بیٹی، بھانجی یا بھتیجی، تو یہ کرنے میں آپ کو مدد ہوگی۔ اب سوچیں کہ وہ آپ کی زندگی جی رہے ہیں اور زیادتی یا تشدّد کے ان تمام واقعات کو ریکارڈ کریں جو ان کے ساتھ ایک دن میں پیش آئے۔ وہ کیا دیکھ، سن اور محسوس کر رہے ہیں اس بارے میں سوچیں۔ اب، اس عمل کو پورا ہفتہ دہرائیں۔ ایک بار جب آپ سب لکھ چکیں تو ان مواقع کےگرد دائرہ لگائیں جس میں بدسلوکی اور دھوکے کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ اب ہر اس مخصوص موقعہ پر نشان لگائیں جس کو بحفاظت اور آسانی سے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ یہ شواہد اکھٹّے کرنے کی اچھی ابتدا ہے۔
اگر آپ اس پر تشدّد رشتے کو چھوڑ چکے ہیں، وہ تمام چیزیں جو آپ کے ساتھ ہو چکی ہیں یا آپ کو بھیجی گئی ہیں (کالز، میسجز، ای میلز، تصاویر)، ان سب کو جمع کر کے بھی شواہد اکھٹّے کر سکتے ہیں۔ یا پھر تھوڑی ہوشیاری دکھا کر، ان تمام باتوں کو ریکارڈ کرلیں جن میں انہوں نے ماضی میں دی گئی دھمکیوں یا کی گئی زیادتیوں کا اعتراف کیا ہو۔
ہر قسم کےشواہد کو جمع کرتے ہوئے بہت محتاط رہیں۔ اور اس بات کا دہیان رکھیں کہ آپ یہ کام کسی کے سامنے نہ کریں خاص طور پر ان کے سامنے جن پر آپ کو بھروسہ نہیں ہے۔ آپ کی اپنی حفاظت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اس بات کا بھی دہیان رکھیں کہ آپ اپنے جمع کئے ہوئے شواہد کو آپ پر تشدّد کرنے والے شخص سے دور اور محفوظ رکھیں تا کہ ان کے مل جانے پر وہ انہیں تباہ نہ کردیں۔ بڑا قدم اٹھانے سے پہلے چھوٹے قدم اٹھائیں!
چند عمومی حفاظتی اقدامات
  • آپکی اپنی حفاظت سب سے اہم ہے اسلئے ریکارڈ کرتے وقت خیال رہے کہ کسی کوشک نہ ہو۔
  • شواہد اکھٹّے کرتے ہوئے، ہمیشہ کوئی بہانہ سوچ کر رکھیں کہ کہیں کوئی ناقابل بھروسہ شخص آپ سے اس بارے میں کوئی سوال نہ پوچھ لے۔
  • اپنی فائلز کو آن لائن کسی پوشیدہ نام سے محفوظ کرکے رکھیں- آپ انہیں ای میل، dropbox.com اور گوگل ڈرائیو پر بھی رکھ سکتے ہیں۔ آپ اپنی فائلز کو پاس ورڈ سے محفوظ کرکے آف لائن بھی رکھ سکتے ہیں – لیکن ہوشیار رہیں اور ان فائلز کے ایسے نام رکھیں کہ کسی کو شک نہ ہونے پائے۔
  • ·فائلز کو آف لائن محفوظ کر کے رکھیں، بہتر ہو گا کہ کئی جگہوں پر کئی کاپیاں بنا کر رکھیں۔ اس بات کے آثار ہیں کہ آپ کے کمپیوٹر پر "ریسنٹ فائل" کی ہسٹری موجودہو سکتی ہے، ان فائلز کو یاد سے لسٹ سے نکال دیں، یا پھراس آپشن کو مکمل طور پر ہٹا دیں۔ ایسا کرنا بہت آسان ہے۔ ایسا MAC اورwindows پہ کیسے ہوسکتا ہے، اس کے بارے میں آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
  • · ان شواہد کو کسی قابل بھروسہ شخص کے ساتھ بانٹیں۔ اگر آپ ایک سے زیادہ لوگوں کوقابل اعتماد سمجھتے ہیں، تو ان کو بھی یہ شواہد بھیجیں۔ لیکن، اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ آپ کو دھوکہ نہ دے دیں۔ اگر آپ یقینی طور پر ان پہ بھروسہ نہیں کر سکتے تو، آپ ان کو ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ انہیں کسی غیر اہم راز میں شامل کریں۔ اور اگر وہ آپ کے اعتبار پر پورے اتریں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وہ قابل بھروسہ ہیں۔
حفاظتی اقدامات کی مزید تفصیل کے لئے گائیڈ کے ہر سیکشن میں دیکھیں۔
Copy link
On this page
شواہد کی اقسام
(1) تحریری شواہد:
(۲) جسمانی یا حقیقی شواہد
(٣) بنیادی ثبوت
(۴) بالواسطہ شہادت
(۵) حلفیہ شہادت
زیادتی کے واقعات